جس تن نوں لگدی او تن جانڈے
جس تن نوں لگدی او تن جانڈے از دیا مغل قسط نمبر15
ولید زجاجہ کو نظر انداز کر رہا تھا ۔۔۔۔ ضبط کی حدوں کو چھوکر ۔۔۔۔ لیکن وہ جس راستے کا انتخاب کر چکا تھا اس سے ہٹ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔ وہ محبت میں بےبس تھا ۔۔۔ زجاجہ کو روح کی گہرائیوں سے چاہا تھا اس نے ۔۔۔ دستبردار کیسے ہو جاتا ۔۔۔۔ مگر جو وہ کر سکتا تھا ، کر رہا تھا ۔۔۔ زجاجہ کی پریشانی حد سے سوا ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ اس کی باتیں سن کر بیا بھی پریشان ہو ہو گئی تھی ۔۔۔۔ "تم صاف صاف بات کرو ان سے ۔۔۔۔۔ یہ کیا حرکت ہوئی بھلا ۔۔۔۔ جب دل چاہا بات کر لی ، جب چاہا چھوڑ دیا " بیا کو غصہ آ گیا تھا ۔۔ "بات تب کروں بیا جب وہ سکون سے میری بات سنیں ۔۔۔ جو بندہ ہیلو کے بعد الله حافظ بول دے ، اس سے کیا صاف بات کروں میں " زجاجہ رو دینے کو تھی ۔۔ "اچھا پلیز ۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا ۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ دعا کرو بس " بیا نے تسلی دی ۔۔۔ "وہ میرا عشق ہیں بیا ۔۔۔۔ میں ایک پل الگ ہونا برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔ میری سانس رکنے لگتی ہے ۔۔۔ مجھے نہیں پتا یہ صحیح ہے یا غلط ۔۔۔ الله پاک نے میرے دل میں ان کے لئے اتنی محبت ڈال دی ہے تو میں کیا کر سکتی ہوں۔۔۔۔" اس نے جواب طلب نظروں سے بیا کو دیکھا ۔۔۔ "کہا نا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔ بس کرو اب ۔۔۔ " بیا نے ٹوکا تو وہ چپ کر گئی ۔۔۔۔ لیکن دھیان ابھی بھی ادھر ہی تھا ۔۔۔ گھر آ کر اس نے ولید کو کال کی ۔۔۔ اب تو اسے یہ بھی نہیں پتا ہوتا تھا کہ ولید اس کی کال اٹھائے گا بھی یا نہیں ۔۔۔۔ وہ جب بھی کال کرتی وہ ریجیکٹ کر دیتا اور ساتھ ہی میسج آ جاتا " کال بیک لیٹر " ۔۔۔۔ ابھی ولید نے کال اٹھا لی تھی ۔۔۔ "ہیلو ۔۔۔۔ کدھر ہیں آپ " زجاجہ نے پوچھا "پھپھو کی طرف گیا ہوا تھا ۔۔۔ گھر آ رہا ہوں اب" وہ اچھے موڈ میں تھا "مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہے کیا " زجاجہ نے اس انداز میں پوچھا کہ ولید کو اپنی دھڑکن رکتی محسوس ہوئی ۔۔۔ "نہیں زجاجہ ۔۔۔ کوئی غلطی نہیں ہوئی تم سے " اس نے فورا جواب دیا "پھر آپ نے مجھے خود سے دور کیوں کر دیا ۔۔۔ کیوں بات نہیں کرتے مجھ سے " اس کے لہجے میں بلا کی معصومیت تھی ۔۔۔ ولید کا دل چاہا وہ ہر مذہب ہر پابندی سب بھول جائے ۔۔۔ یاد رکھے تو بس اس پاگل لڑکی کو ۔۔۔۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ لہذا چپ رہا ۔۔۔ "بولیں نا ولید ۔۔۔۔ " اس نے پھر پکارا ۔۔۔ "کچھ نہیں زجاجہ ۔۔۔ تم ریسٹ کرو ۔۔۔ پھر بات کریں گے " ولید کا ضبط ٹوٹنے لگا تھا ۔۔۔ "نہیں پلیز ۔۔۔۔ ابھی بات کریں ۔۔۔ پلیز ولی " زجاجہ منت پہ اتر آئی تھی ۔۔۔ "آپ مجھے بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے ۔۔۔ مجھے بابا کی قسم ہے ولی میں صرف آپ سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ آپ کے علاوہ کوئی بھی نہیں میری زندگی میں " وہ پاگلوں کی طرح صفائی دے رہی تھی ۔۔۔ اسے لگا شاید ولید حسن اس پہ شک کر رہا ہے اور ناراض ہے ۔۔۔ "زجاجہ کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا ایسا کہ تمہارے بارے میں اتنی گھٹیا سوچ بھی لاؤں ذہن میں ۔۔۔ " وہ تڑپ گیا ۔۔۔ " یو آر مائی پرائیڈ زجی " "تو پھر مت کریں ایسا ۔۔۔ مر جاؤں گی میں ۔۔۔۔۔ میرے سے بات کیا کریں ۔۔۔ ویسے ہی خیال رکھا کریں میرا ۔۔۔۔ ویسے ہی میسجز کیا کریں جیسے پہلے کرتے تھے " وہ رو رہی تھی ۔۔۔ منت کر رہی تھی ۔۔۔ ولید سے برداشت کرنا مشکل ہو گیا ۔۔۔ اس نے کال کاٹ دی ۔۔۔ اور پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ "حسن چین آف ہوٹلز" کا خوبرو مضبوط اعصاب رکھنے والا اونر سڑک پر کسی بچے کی طرح دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زجاجہ کی تو گویا دنیا ہی بدل گئی تھی ۔۔۔ وہ بہت چپ رہنے لگی تھی ۔۔۔۔۔ سب اس سے شکوہ کرتے اور وہ کوئی جواب نہ دیتی ۔۔۔ ولید بھی یہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ سب سے دور ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔ اگر اس میں کچھ ویسا تھا تو وہ تھی اس کی ولید کے لئے محبت ۔۔۔ وہ اب بھی اسے پہلے کی طرح ہی میسج کرتی ۔۔۔ کالز کرتی ۔۔۔ وہ کبھی ایک آدھ کا جواب دیتا اور کبھی پورا پورا دن کوئی میسج نہ کرتا ۔۔۔۔۔ لیکن اب وہ ضد نہیں کرتی تھی ۔۔۔ ولید کے لئے یہ سب برداشت کرنا بہت مشکل تھا ۔۔۔ اس نے زجاجہ کے قدم۔پیچھے ہٹانے کے لئے ایک اور حربہ استعمال کرنے کا سوچا ۔۔۔ وہ لائبریری میں بیٹھی نوٹس بنانے میں مصروف تھی کہ ولید اس کے پاس آیا ۔۔۔ زجاجہ کو پتا ہی نہ چلا کہ کوئی کھڑا ہے ۔۔۔۔ "زجی " ولید نے پکارا زجاجہ نے چونک کر اوپر دیکھا ۔۔۔۔۔ ولید کو سامنے دیکھ کر اس کے چہرے پر الوہی سی چمک آ گئی ۔۔۔۔ "جی " وہ مسکرائی ۔۔۔۔۔ "کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟؟؟ کچھ بات کرنی ہے تم سے " ولید نے نرمی سے کہا "جی جی ۔۔۔۔ کیوں نہیں ۔۔۔۔ بیٹھیں پلیز " زجاجہ نے فورا جواب دیا ۔۔۔ "میں انسان ہوں زجاجہ ۔۔۔۔ خطا کا پتلا ۔۔۔ دنیا کی رنگینی میں کھو جانے والا ۔۔۔۔ ہر نئے چہرے سے متاثر ہو جانے والا ۔۔۔۔ " وہ میز پر نظریں جمائے بول رہا تھا ۔۔۔ وہ چپ چاپ سن رہی تھی ۔۔۔ اس کا پورا جسم گویا سماعت بن گیا تھا ۔۔۔ "تم بہت اچھی ہو ۔۔۔۔ تم جیسی لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی ۔۔۔ آئی ریئلی فیل پراؤد فار یو " "ولید جو کہنا چاہتے ہیں وہ کہیں ۔۔۔۔" زجاجہ متانت سے بولی "یو نو زجاجہ ۔۔۔۔ تم میرے دل سے اترتی جا رہی ہو "۔۔۔۔ اپنی طرف سے ولید نے بم پھوڑا تھا مگر وہ بھی زجاجہ سکندر تھی ۔۔۔کوئی عام لڑکی نہیں کہ یہ بات سن کر حواس کھو بیٹھتی ۔۔۔۔۔ اس نے ایک نظر ولید پر ڈالی اور بےپرواہی بولی "کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ ولی ۔۔۔۔ بیویاں اکثر شوہر کے دل سے اتر ہی جاتی ہیں "۔۔۔۔ چونکنے کی باری ولید کی تھی ۔۔۔۔۔ "وہاٹ ۔۔۔۔ہوش میں ہو ؟؟کون سی بیوی ؟؟؟کس کی بیوی ؟؟؟ پاگل تو نہیں ہو ؟؟؟" وہ ایک ہی سانس میں بہت کچھ بول گیا "یاد نہیں کیا۔۔۔ ایک بار آپ نے کہا تھا 'زجاجہ ولید حسن '۔۔۔۔۔مجھے اور تو کچھ نہیں پتا ولی ۔۔۔۔بس اتنا جانتی ہوں اس لمحے سے ابھی تک اور آخری سانس تک کسی اور کی سوچ بھی میرے لئے گناہ ہے "۔۔۔۔ اس کی آواز بھرا گئی ولید نے ایک گہرا سانس لیا اوراپنی انگلیاں مروڑتی زجاجہ کو پوری وارفتگی سے دیکھتے ہوئے بولا "میری جھلی "۔۔۔۔۔ زجاجہ نے مسکرا کر اس شاندار مرد کو دیکھا ۔۔۔جو نہ اس کے قریب رہ پا رہا تھا نہ دور جانے کا حوصلہ رکھتا تھا ۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسز یزدانی عمرہ کی۔ادائیگی کے بعد ادھر سے ہی UK چلی گئی تھیں ۔۔۔۔ سکول کی۔ساری ذمہ داری ولید پر تھی ۔۔۔۔ وہ بہت مصروف ہو گیا تھا۔۔۔۔۔ صبح کا گیا رات کو گھر لوٹتا ۔۔۔۔ نقاش اور پھپھو نے اپنی طرف آنے کا بولا بھی مگر اس نے منع کر دیا ۔۔۔ وہ اکیلا رہنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ وہ گھر لوٹا تو دس بج رہے تھے ۔۔۔۔ بوا نے اس سے کھانے کا پوچھا تو وہ شرٹ کے بازو فولڈ کرتا باہر ہی آ گیا ۔۔ "آپ کیوں جاگتی رہتی ہیں ۔۔۔۔ بولا تھا میں نے کہ سو جایا کریں ۔۔۔۔ " وہ شرمندہ ہوا "جب تک آپ کھانا نہ کھا لو میرے سامنے ۔۔۔۔ مجھے سکون نہیں آتا بیٹا " وہ پیار سے بولیں ۔۔۔۔ "بوا اچھی سی چائے پلا دیں " وہ ادھر لاؤنج میں صوفے پر ہی نیم دراز ہو گیا ۔۔۔ خیال کی ندی پھر اسی دریا کی طرف بہہ نکلی تھی ۔۔۔۔۔ ولید نے آنکھیں کھول دیں ۔۔۔۔ اور اٹھ کر کھڑکی کے پاس آ گیا ۔۔۔۔ چاند اپنے جوبن پہ تھا ۔۔۔۔ "پتا نہیں کیا کر رہی ہو گی ۔۔۔۔ شاید سو گئی ہو ۔۔۔۔ " وہ زجاجہ کے بارے میں سوچے گیا ۔۔۔۔ "کیسے بتاؤں زجاجہ تمہیں ۔۔۔۔ ایک ایک پل اذیت ہے ۔۔۔۔ لیکن یہ اذیت عارضی ہے ۔۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔ انشا الله " اس نے دل ہی دل میں خود کو تسلی دی ۔۔۔۔ اور کمرے میں آ گیا ۔۔۔۔ تھکان کی وجہ سے اس کا جسم ٹوٹ رہا تھا ۔۔۔۔ "پتا نہیں کوئی پین کلر ہے بھی یا نہیں " اس نے سوچتے ہوئے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولا تو ایک ڈوری ہاتھ میں آ گئی ۔۔۔ "یہ لیں ۔۔۔ " زجاجہ نے اسے کالے رنگ کی ڈوری دی تو وہ حیرت سے دیکھنے لگا "یہ کیا ہے " "یہ فرینڈشپ بینڈ ہے ۔۔۔۔ آج سے ہم فرینڈز بن گئے " وہ خوشی سے چہکی ۔۔۔ "اوہ اچھا ۔۔۔ ایسا تمہارے پاس بھی ہے ؟؟؟" "جی ۔۔۔ ایک آپ کے پاس رہے گا اور ایک میرے پاس ۔۔۔۔ فرینڈشپ کی پہلی اینورسری پہ ہم آپس میں change کریں گے انہیں " وہ پوری پلاننگ کئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔ ولید اس کی بچگانہ باتوں پر ہنستا چلا گیا ۔۔۔ موبائل کی بیپ اسے حال میں لے آئی ۔۔۔ اس نے گہری سانس لی اور بینڈ کو ہاتھ کے گرد لپیٹ کر موبائل اٹھا لیا ۔۔۔۔ زجاجہ کا مسیج تھا ۔۔۔ "تجھے ایک نظر دیکھنے والے اپنی آنکھوں پر مرتے ہوں گے " "الله پاک اپنی امان میں رکھے ۔۔۔۔ الله حافظ " اس کا گڈ نائٹ میسج ہر روز ایسا ہی ہوتا تھا ۔۔۔۔ ولید نے موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا اور بیڈ کراؤن کے ساتھ سر ٹکا کر آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔